THE BUGGA CHARTER – Peter Tachell, Baloch Nation rejects him

I agree with Waja Azeem Baloch. Freedom charters are made with consultations with all Baloch parties and stakeholders not in the living rooms by BUGGAS over a drink party. There should have been a constitutional committee formed with agreement and consent of all Baloch stake holders and every one should have been asked to give their input and a final draft should have been made with all stake holders consent and signatures and were put to vote by Baloch people. This is the democratic way, but seems like Sardari mentality does things their own way and not want any input from others. This charter is nothing but a piece of trash destined to the trash Cain.

GOOD BYE and GOOD LUCK with this BUGGA CHARTER.

———- Forwarded message ———-
From: Azeem Baloch <Azeembaloch2000@yahoo.com>
Date: Saturday, 20 October 2012, 11:20AM
Subject: [balochi_culture] Re: چارٹر ایک شخص کے لئےنہیں۔ ۔ ۔ پھر براہمدغ کیوں متفق نہیں
To: balochi_culture@yahoogroups.com,
Cc: “Baluch Reporter” <baluch.reporter@gmail.com>,
THE BUGGA CHARTER
This charter was written by a well known Gay (BAGGA). His name is Peter Tachell. Baloch Nation reject this BUGGA CHARTER. No body was asked to put there input in it. There was no conference held on this to ask all stakeholders to join and give their input, nor a constitutional committee was formed including all stakeholders to help draft the charter. Those who made it and promoted it are not Baloch leaders but are a part of the Baloch killings. Their family members are in bed with Paki Government. Therefore we fully rejects this so called BUGGA Charter, its BUGGA writer and its promoter, Mr. Hair Biyar Marri and his gang, the so called self proclaimed “Baloch leaders”.
They need to stop calling themselves as “Baloch leaders”. They are not our leaders nor they are the leaders of Baloch Nation. they should stop calling them as such to fool themselves and the world.

———- Forwarded message ———-
From: noutak baloch <ameerism@yahoo.co.uk>
Date: 2012/10/20
Subject: [balochi_culture] Re: چارٹر ایک شخص کے لئےنہیں۔ ۔ ۔ پھر براہمدغ کیوں متفق نہیں
To: Shaihaq Baloch <shaihaqb@ymail.com>

Waaja Nourouz Khan: Man Nawabzada Brahamdagh Bugti e haaltraan (interview)
doushi va marchi VSH News e saraa goush daashtag. Aahiye gwashag ishint k
tanigaa Nawab Khair Bakhsh Marri a ey Charter of Liberation namannitag. Wahdey k
Nawab sahib cha ey charter a diljam nahint aa (Brahamdagh) che paim gon aahiyaa
tipaak beet. Ikhtelaafe raaye democracy e bahr eyt. Baayad nahint ey gapp a shumaa
Braahamdagh e anaa e shikl a peish bekanit. Aga raast belouTay Khan Suleman Dawood
a ham Charter of Liberation e saraa wati reservation draa kutag ant. Yak washen gappey
ishint k daraa nishtagen sarouk drust yak point agenda bizaan aazaati e saraa tipaak ant. Hamey Baloch e bunyaadi masa’lah int. Diga draahen ikhtilaafaat gon gapp o traan a geesh o geewaar kanag bayant.
Ameeri

From: Shaihaq Baloch <shaihaqb@ymail.com>
To:
Sent: Saturday, 20 October 2012, 2:40AM
Subject: چارٹر ایک شخص کے لئےنہیں۔ ۔ ۔ پھر براہمدغ کیوں متفق نہیں
چارٹر ایک شخص کے لئےنہیں۔ ۔ ۔ پھر براہمدغ کیوں متفق نہیں

تحریر : نوروز خان بلوچ

گذشتہ دنوں نوابزادہ حیر بیار مری نے روزنامہ توار کو اپنے خصوصی انٹرویو میں لبریشن چارٹر کے حوالے سے کہا تھا کہ اختر مینگل نے اس چارٹر کو رد کر دیا جبکہ براہمد غ نے خاموشی اختیار کیا ہوا ہے ، براہمدغ ان کا فون اٹھاتا ہے نہ ہی دیگر ساتھیوں کی چارٹر کے حوالے سے ایمیلز کا جواب دے رہے ہیں ۔ آج بروز جمعہ 19اکتوبر کو براہمدغ بگٹی نے لبریشن چارٹر کے حوالے سے پہلی بار خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ انہو ں نے چارٹر کو رد نہیں کیا بلکہ اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کیا ہے اور جب تک ان کے تحفظات کو دور نہیں کیا جاتا اس وقت تک اگر نواب خیر بخش مری بھی اس چارٹر کو پیش کرے تب بھی میں اس پر اتفاق نہیں کرونگا۔ اس چارٹر پر اتفاق کرنے کا مطلب اپنے پارٹی (بی آر پی) کے منشور سے رو گردانی کا مترادف ہوگا۔ لیکن براہمدغ صاحب نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ اس لبریشن چارٹر کے بابت ان کے اور ان کی پارٹی کے خدشات و تحفظات کس نوعیت کے ہیں، بلوچ قوم جاننا چاہتی ہے کہ براہمد غ کے ذہن میں وہ کون سے نکات ہیں جنہیں چارٹر میں شامل نہیں کیا جارہا ۔ واضح رہے کہ لبریشن چارٹر کے بابت نوابزادہ حیر بیار مری اور دیگر آزادی پسند سنگتوں نے میڈیا کو بتایا تھا کہ اس چارٹر کی تیاری اور اسے فائنل کرنے تک نواب خیر بخش مری کے قائدانہ صلاحیتوں سے مسلسل استعفادہ کیا گیا، اور نواب مری کی مرضی سے اس چارٹر کو فائنل کرکے اسے خان قلات سلیمان داود احمدزئی ، اختر مینگل اور پھر براہمدغ بگٹی تک خود حیر بیار مری نے سویٹزرلینڈ جاکر بنفس نفیس پیش کیا۔ طویل عرصہ کے بعد براہمدغ بگٹی نے اس چارٹر کو دھیمے لہجے میں ماننے سے انکار کرکے یقینا بلوچ آزادی پسند قوم کو مایوس کر دیا۔ براہمدغ بار بار اصرار کر رہے ہیں کہ پہلے آزادی حاصل کر لیں گے پھر جمہوری طریقے سے یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ وہ کس طرح کا بلوچستان چاہتےہیں بگٹی صاحب کی اس بات سے مجھے (تریت و موری) والی بات یاد آرہی ہےکیونکہ اس چارٹر میں بھی واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ جمہوری طریقہ ہی سے بلوچستان کے معاملات آگے چل کر چلایا جائے گا اور یہ فیصلہ بلوچ قوم خود کریں گےکہ وہ کیسا نظام حکومت چاہتے ہیں یہ بھی کہ آنے والا بلوچستان میں ون مین ون ووٹ کا حق سب کو حاصل ہوگا۔ کوئی سردار، نواب اور ڈکٹیٹر کی دادا گیری قابل قبول نہیں ہوگی۔یاد رہے کہ اختر مینگل نے بھی اس چارٹر پر اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کرکے اسے یکسر مسترد کر دیا آج پوری بلوچ قوم یہ جان چکی ہے کہ اختر مینگل پاکستانی الیکشن کے لئے پر تول رہے ہیں۔ بلوچ قوم کے لئے بدقسمتی کا مقام ہے کہ براہمدغ بگٹی نے اس چارٹر پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور اشاروں کنایوں میں اسے چار لوگوں کا مشترکہ کوشش قرار دے کر کہا کہ انہیں یہ حق نہیں وہ پوری بلوچ قوم کی نمائندہ بن کر مستقبل کے فیصلے کرنے لگیں لیکن بگٹی صاحب یہ بھول گئے کہ اس چارٹر میں کسی ذات کی مفاد کو مد نظر نہیں رکھا گیا بلکہ اس چارٹر کو پوری بلوچ قومی غلامی سے نجات اور بعد کے روشن مستقبل کو مد نظر رکھ کر اسے مرتب کیا گیا ہے ۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس چارٹر کی تیاری سے براہمدغ کی پارٹی کمزور ہوگا ۔ میں داد دیتا ہوں اس چارٹر کو تیار کرنے والوں کو کہ انہوں نے اپنا نام تک ظاہر نہیں کیا کیونکہ انہیں حالات کا صحیح ادراک تھا کہ کوئی بلوچ رہنما یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ یہ چارٹر فلاں کی طرف سے بنائی گئی ہے اور فلاں پارٹی ہم سب پر غالب ہورہا ہے ۔ بلوچستان کے پر آشوب حالات ہمیں ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ہم اپنے انا کی خاطر پوری بلوچ قوم کے مستقبل کو غلامی کی بھینٹ چڑھا دیں۔ شہید بالاچ مری کی شہادت کے موقع پر بین الاقوامی نشریاتی ادارہ بی بی سی اردو ریڈیو سروس کو انٹر ویو دیتے ہوئے نوابزادہ براہمدغ نے کہا تھا کہ ’’میرا کوئی بھائی نہیں ہے اگر میرا کوئی بھائی تھا تو وہ بالاچ تھا‘‘ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہاہے کہ آج انہی بالاچ کے کارواں کی لبریشن چارٹر پر اختر مینگل کی طرح اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں جو یقینا ان کی بلوچ قوم میں پذیرائی پر منفی اثرات مرتب کرنے کا سبب بن سکتی ہے اور بلوچ قوم اسے براہمدغ صاحب کی تنگ نظری اور انا پرستی سے تعبیر کر رہی ہے ۔ بلوچ قوم کے نوجوان ریاستی بربریت کا آج جتنا شکار ہے شاید ہی ماضی کے کسی ادوار میں رہے ہوں۔ شہدا، کی ارواح اور ان کی قربانیاں قطعاً یہ اجازت نہیں دیتے کہ ہم اپنی ذاتی انا کو قومی کاز پر فوقیت دیں۔آج نہیں تو کل براہمدغ بگٹی کو لبریشن چارٹر کو قبول کرنا ہوگا کیونکہ ایک منظم اور واضح پالیسی کےبغیر آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ تمام بلوچ رہنماؤں کو اپنے ذاتی پسند و ناپسند اور چھوٹے چھوٹے ناراضگیوں کو دفن کرنا ہوگا کیونکہ بلوچ قوم مزید انتشار اور نا اتفاقیوں کا مزید متحمل نہیں ہوسکتا۔ لبریشن چارٹر کو بلوچ قوم اپنا قومی چارٹر سمجھتی ہے ، یہ کسی شخص کی چارٹر ہے نہ ہی کسی ذات کی مفادات کا رکوالی بلکہ یہ پوری بلوچ قوم کی نمائدنگی کرتی ہے کیونکہ اس میں بلوچستان کا روشن مستقبل پنہاں ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: